نئی دہلی29جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں اگلے ایک دو دنوں میں ردوبدل ہو سکتا ہے۔پی ایم مودی کے بیرون ملک دورے سے پہلے حکومت اس بڑے کام کو انجام دینے کی کوشش میں لگ گئی ہے۔پی ایم مودی 6جولائی کو بیرون ملک دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔اس کے پہلے ہی طویل قیاس لگائے جا رہے کابینہ ردوبدل کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔یوپی اسمبلی انتخابات کے پہلے ہی ردوبدل کئے جانے کی بات کہی جا رہی تھی۔یہ تبدیلی دوسال کی رپورٹ کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔معلومات کے مطابق بی جے پی قیادت این ڈی اے حکومت کی کابینہ میں ردوبدل کے دوران چار نئے چہروں کو جگہ مل سکتی ہے۔ان میں کم از کم ایک وزیر کا جنوبی ریاست سے ہونا تقریباََ طے ہے۔اس سے پہلے مرکزی حکومت نے کابینہ میں ردوبدل کے پیش نظر صدر پرنب مکھرجی سے 19سے 23تک ان کی دستیابی پوچھی تھی۔بعدمیں اسے آگے بڑھادیاگیاتھا۔آج تک کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس پورے ایڈجسٹمنٹ میں جو سب سے بڑی بات سامنے آ رہی ہے،وہ یہ کہ بہار کے قدآور لیڈر اور مرکزی وزیر گری راج سنگھ کی کرسی پر گاج گر سکتی ہے۔اس کے علاوہ نائب صدر بننے کی ’’تیاری‘‘میں جٹی اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہیبت اللہ سے بھی وزیر کا عہدہ چھن سکتا ہے۔جبکہ نہال چند کی بھی کرسی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق نئی کابینہ میں الہ آباد سے ممبرپارلیمنٹ شیاماگپتا کو جگہ مل سکتی ہے جبکہ جبل پور سے ممبرآف پارلیمنٹ راکیش سنگھ، بیکانیر سے ممبر پارلیمنٹ ارجن رام میگھوال، بی جے پی کے جنرل سکریٹری اوم ماتھر اور ونے سہستربددھے کو بھی مودی حکومت کی کور ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔دوسری طرف میڈیارپورٹس میں کہا گیا ہے کہ نئی کابینہ میں آسام کو بھی ایک نشست دی جائے گی۔جبکہ مختار عباس نقوی کا پروموشن بھی طے ہے۔بی جے پی کے ذرائع بتاتے ہیں کہ پارٹی نے بہار انتخابات کے پیش نظر گری راج سنگھ کو کابینہ میں جگہ دی تھی۔ریاست میں انتخابات کے دوران گری راج کو کھلی چھوٹ بھی ملی تھی، لیکن اس کا کوئی خاص فائدہ بی جے پی کونہیں ملا۔جبکہ اکثر اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے گری راج پارٹی کو بیک فٹ پربھی لے گئے۔ایسے میں نئے ایڈجسٹمنٹ میں ان کی چھٹی طے مانی جارہی ہے۔دوسری طرف نجمہ ہبۃ اللہ اب 71سال کی ہو گئی ہیں۔بی جے پی پہلے ہی اشارہ دے چکی ہے کہ وہ 75سال سے زیادہ کے رہنماؤں سے کنارہ کرنے والی ہے۔ایسے میں نجمہ پتی بھی کٹ سکتا ہے۔تاہم اس کا سیدھا فائدہ مختار عباس نقوی کو ہونے والا ہے۔انہیں اقلیتی چہرہ ہونے کا فائدہ ملنے والا ہے۔ساتھ ہی وہ یوپی سے بھی ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں انتخابات ہونے ہیں۔کابینہ میں ردوبدل کا یہ فیصلہ وزیر اعظم مودی، بی جے پی صدر امت شاہ کی آر ایس ایس لیڈروں کے ساتھ ہوئی میٹنگ کے بعد لیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے آرایس ایس سربراہ سے نئے وزراء کے نام پرمنظوری لے لی گئی ہے۔حالانکہ ابھی اس طرف صرف قیاس ہی لگائے جا سکتے ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں وزیر اعظم مودی اور امت شاہ ایک اہم میٹنگ کرنے والے ہیں، جس ناموں کولے کر آخری فیصلہ کیا جائے گا۔